وہ جذبوں کی تجارت تھی ، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا
اسے ہنسنے کی عادت تھی ، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا
مجھے اس نے کھا ، آ وؑ نئی دنیا بساتے ہیں
اسے سوجھی شرارت تھی یہ دل کچھ اور سمجھا تھا
ہمیشہ اس کی آنکھوں میں ، دھنک سے رنگ ہوتے تھے
یہ اس کی عام حالت تھی یہ دل کچھ اور سمجھا تھا
میرے کاندھے پہ سر رکھ کے ، کہیں پہ کھو گیا تھا وہ
یہ اک وقتی عنایت تھی یہ دل کچھ اور سمجھا تھا
وہ جذبوں کی تجارت تھی
یہ دل کچھ اور سمجھا تھا


0 comments :
Post a Comment