میں ٹوٹ کر بکھر گیی ہوں
جو ہو سکے تو اسے بتاؤ
میں زندگی میں ہی مر گیی ہوں
جو ہو سکے تو اسے بتاؤ دوستو
ہر اک تعلق میں زخم کھا کر
یہ میری حالت اب ہو گئی ہے
کہ اپنے سائے سے ڈر گیی ہوں
جو ہو سکے تو اسے بتاؤ
تھی جس کے دم سے تمام خوشیاں
اسی کے دم سے میں رنج و غم کی
ہر ایک حد سے گزر گی ہوں
جو ہو سکے تو اسے بتاؤ
لبوں پہ اس کے ہنسی کی خاطر
کہ اس کی اک اک خوشی کی خاطر
میں خود کو قربان کر گیی ہوں
جو ہو سکے تو اسے بتاؤ
جو میں نے اس سے کہا تھا جنت."
تمھارے بن بھی میں جی ہی لوں گی
میں بات کر کے مکر گیی ہوں
جو ہو سکے تو اسے بتاؤ
ہاں زیشان میں سچ میں مکر گیی ہوں

0 comments :
Post a Comment