ابھی گھر نہ جانا
ابھی گھر نہ جانا
یہ بکھری سی زلفیں یہ پھیلا سا کاجل
یہ بے چین آنکھیں یہ سمٹا سا آنچل
تیرے حال سے لوگ پہچان لیں گے
تجھے دِیکھ کر سب مجھے جان لیں گے
یہ بہکے قدم یہ لڑکھڑاتی جوانی
یہ بیتاب دل اور محبت دیوانی
شفق جیسے گالوں پہ ابھری ہوئی ہے
میرے ہونٹوں کی ایک مہکتی نشانی
تیرے جسم سے اُڑتی میری یہ خوشبو
سنا دے گی سب کو یہ ساری کہانی
نا بن جائے اپنا ملن اک فسانہ
ابھی گھر نہ جانا
ابھی گھر نہ جانا . . . !
جو پوچھے گا کوئی تو تم کیا کہو گی
سوالوں کی بوچھاڑ میں چپ رہوگی
پریشان گھبرائی سی خاموشی میں
جوابوں کی منزل بہت دور ہوگی
بزرگوں کی آکھیں اڑا دے گی رنگت
سہیلی کے طعنے کہاں تک سنو گی
نا بن جاے خود جال ہر اک بہانہ
ابھی گھر نا جانا
ابھی گھر نا جانا
خدا نہ کرے ترے بن اب جیوں میں
یہ دنیا تو کیا ہے کہ جنت نا لوں میں
ترےاشک میں اپنی آنکھوں میں بھر لوں
جو موت آے تو تیرے بدلے مروں میں
یہ جیوں تو کیا ہے جو مل جاے مجھ کو
تو یہ چاند سورج بھی صدقے کروں میں
اگر مر گئے پھر جنم لے کے آنا
ابھی گھر نا جانا
ابھی گھر نا جانا

0 comments :
Post a Comment