تو جو وعدوں پہ ڈٹ گیا ہوتا
کون کافر تھا ہٹ گیا ہوتا
تیرے سینے میں دل نہیں شاید
ورنہ اب تک تو پھٹ گیا ہوتا
تیرا میرا ملن جو ہو جاتا
کیا زمانے کا گھٹ گیا ہوتا
اور کچھہ وقت ساتھہ رہ لیتے
اور کچھہ وقت کٹ گیا ہوتا
ہم جو تجھہ سے لپٹ کے رو لیتے
غم کا بادل تو چھٹ گیا ہوتا
تجھہ کو منزل سمجھنے سے پہلے
.کاش انشاء پلٹ گیا ہوتا

0 comments :
Post a Comment